اسلام آباد:بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے تقریب جاری ہے، وزیراعظم شہباز شریف کچھ دیر میں نرخ میں کمی کا اعلان کریں گے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق حکومت نے عوام کو سہولت دینے اور بوجھ کم کرنے کی غرض سے بجلی کے نرخ میں کمی لانے کا فیصلہ کیا تھا جس کا اعلان آج اس تقریب میں کچھ دیر بعد متوقع ہے۔
تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر توانائی اویس لغاری، اعظم نذیر تارڑ، عطا تارڑ اور دیگر وزرا و حکام شریک ہیں۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج عید کے موقع کی مناسبت سے پاکستان کی معاشی ترقی و استحکام کے لیے ایک ادنیٰ سے خوش خبری سنانے کے لیے آیا ہوں، اللہ کے فضل سے وہ وعدہ پورا ہوا جس کا نواز شریف نے ن لیگ کے منشور میں اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری سنبھالی تو ملک ڈیفالٹ ہونے والا تھا، آئی ایم ایف کوئی بات سننے کو تیار نہیں تھا، پوری قوم خوف زدہ تھی کی حالات کس کروٹ بیٹھیں گے، ہم نے انتہائی دشوار گزار سفر طے کیا اور ملک کو ڈیفالٹ سے باہر لے آئے۔
پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی باتیں کرنے والے خوشی سے مرے جارہے تھے کہ پاکستان اب دیوالیہ ہوکر رہے گا مگر ایسا نہ ہوا، یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا اور اسے توڑا۔
وزیراعظم نے کہا کہ میں کھلے دل کے ساتھ اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہوں کہ اس سارے عمل میں آرمی چیف جنرل سید محمد عاصم منیر اور ان کے رفقائے کار کا مجھے اور میری ٹیم کو بھرپور تعاون حاصل رہا اور کلیدی کردار رہا۔
شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ دور میں بجلی کے زائد نرخ نے لوگوں کو بے روزگار کیا، بجلی کا بل بھرنے والا سوچتا تھا کہ بچے کی دوائی کیسے خریدوں؟ یہ عوام کا قربانی بھرا دور ہے، آج میں ایک ادنی سا تحفہ قوم کو دینا چاہتا ہوں، قوم کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، ہمارے قائد نواز شریف مشنور میں کہا تھا کہ مہنگائی 2026ء میں سنگل ڈیجٹ میں لے آئیں گے مگر یہ وعدہ 2025ء میں ہی پورا ہوگیا، ایک سال میں پیٹرول کی قیمت میں 38 فیصد کمی آئی، اس پورے خطے میں پیٹرول کی قیمت سب سے کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال محصولات کی وصولی میں 35 فیصد اضافہ کرنے جارہے ہیں، گزشتہ سال یہ شرح 30 فیصد تھی، اس سے قرض لینے میں کمی آجائے گی یہی بہتر ہے کہ ہم اپنی آمدنی خود پیدا کریں۔
انہوں ںے کہا کہ بجلی کی زائد قیمت ترقی کی راہ میں ہمالیہ کی مانند رکاوٹ ہے، ہماری زراعت، ایکسپورٹ اور صنعت کچھ بھی ترقی نہیں کرسکتی، جو ہوگیا سو ہوگیا، ہم ایک مشکل سفر طے کرکے آئے ہیں، بجلی سے متعلق بنائی گئی ٹاسک فورس یہاں موجود ہے جس نے دن رات کوششیں کیں جس نے بڑی مشکل سے آئی ایم ایف کو منایا، انہوں نے اچھے اچھے آپشن پیش کیے مگر آئی ایم ایف نے ہم نے انکار کیا، ہم نے پھر کوششیں کیں خدا خدا کرکے کفر ٹوٹا اور آئی ایم ایف راضی ہوا یوں سمجھیں کہ آئی ایم ایف نے ہم پر احسان کیا اور بجلی کی قیمت میں کمی کی اجازت دی۔
آئی پی پیز کے معاملے پر انہوں ںے کہا کہ میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتا، آئی ایم ایف سے کہا کہ آپ نے بہت کمالیا اب قوم کو کچھ دیں اور بات کریں، اس ٹاسک فورس نے جس طرح آئی پی پیز سے بات کی اسے سراہا جائے، ٹیم کو سردار اویس لغاری نے لیڈ کیا، جنرل ظفر، محمد علی، سیکریٹری پاور و دیگر مبارک باد کے مستحق ہیں، اس ٹیم نے قوم کے تین ہزار 696 ارب روپے بچائے ہیں یہ وہ رقم ہے جو اگلے برسوں میں ادا ہونے جارہی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ بجلی کا سرکلر ڈیٹ یعنی گردشی قرضہ دو ہزار 393 ارب روپ کا ہے اس کا بھی بندوبست کرلیا گیا ہے اگلے پانچ برس میں یہ قرضہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا اور گردش نہیں کرے بشرط یہ کہ ہم اپنا چال چلن تبدیل کریں۔
وزیراعظم نے کہا کہ جنکو پاور پلانٹس سالہا سال سے بند پڑے ہیں ایک یونٹ پیدا نہیں ہورہا مگر سالانہ اربوں روپے دیے جارہے ہیں اس سے بڑا ظلم قوم پر کیا ہوگا؟ نقصان قوم کے بلوں میں جارہا ہے، یہ کینسر ہے جسے جڑ سے کاٹنا ہوگا، ہدایت دی کہ اس جنکو پلانٹ کو شفاف طریقے سے بیچ جائے، قبل ازیں ایک پاور پلانٹ بیچا ہے بند شدہ جو 9 ارب روپے میں بیچا ہے اس کا سالانہ سات ارب روپے خرچہ تھا، یہ کسی ایک حکومت کا پیدا کردہ نہیں 77 سالہ بوجھ ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ٹیکس کے مقدمات میں تیزی لانے پر چیف جسٹس کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ایک ملاقات میں میری گزارشات سنیں، سندھ ہائی کورٹ نے صبح اسٹے آرڈر ختم کیا اور شام کو 23 ارب روپے قومی خزانے میں آگئے۔
گھریلو صارفین
انہوں ںے کہا کہ جون 2024ء میں گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت 48 روپے 70پیسے تھی یہ قیمت کم ہوکر اس سال 45 پیسے 05 پیسے فی یونٹ ہوچکی ہے یعنی اس میں ساڑھے تین روپے کی کمی ہوئی اور میں آج اس میں مزید سات روپے 41 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کرتا ہوں، گھریلو صارفین کو اب بجلی اوسطً 34 روپے 37 پیسے فی یونٹ میں فراہم کی جائے گی۔
صنعتی صارفین
وزیراعظم نے کہا کہ جون 2024ء میں صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمت 58 روپے 50پیسے تھی، بعد کے مہینوں میں یہ قیمت 48 روپے 19 پیسے ہوچکی ہے یعنی اس میں 10 روپے 30 پیسے کی کمی لائی گئی، آج میں اس میں مزید 7 روپے 59 پیسے کمی کا اعلان کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ سالانہ 600 ارب روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے ہمیں اس چوری کا خاتمہ کرنا ہے، اوپن مارکیٹ قائم کرکے بجلی سستی کرنی ہے، ڈسکوز کو فوری طور پر پرائیوٹ کرنا ہوگا، یہ اگلے اہداف ہیں، زندگی رہی تو بجلی کی قیمت مزید کریں گے۔