عمران خان کو عید کی نماز نہیں پڑھنے دی گئی، کیسے اسلامی ملک میں رہ رہے ہیں ؟ عمر ایوب

0

قومی اسمبلی میں اپوزیشں لیڈر عمر ایوب نے الزام لگایا ہے کہ عمران خان کو عید کی نماز نہیں پڑھنے دی گئی، ہم کیسے مملکت اسلامی پاکستان میں رہ رہے ہیں جہاں بانی بانی پی ٹی آئی کو عید کی نماز نہیں پڑھنے دی گئی۔

بانی پی ٹی آئی سے آج دوستوں کی ملاقات کا دن تھا، پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب، شبلی فراز ترجمان بانی پی ٹی آئی نیاز اللہ نیازی، عالیہ حمزہ اور دیگر ملاقات کے لیے پہنچے۔

پارٹی سیکرٹری سلمان اکرم راجا نے بانی سے ملاقات کرنے والوں کے نام پہلے ہی جیل حکام کو بھجوا دئیے تھے، شام چار بجے جیل عملے نے ملاقات کی اجازت نہ دینے پر باضابطہ آگاہ کیا جس پر پارٹی رہنما واپس چلے گئے۔

اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں عدالتی حکم کے باوجود بانی سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی، جمعرات کی ملاقات کی لسٹ بانی خود فائنل کرکے وکلاء کے حوالے کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پتا نہیں کس کے کہنے پر ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، بانی کی اڑھائی ماہ سے بچوں سے بات نہیں ہونے دی گئی،بہنوں سے ملاقات نہیں کرنے دی گئی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ بانی پی ٹی آیہ کو عید کی نماز نہیں پڑھنے دے گئی، ہم کیسے مملکت اسلامی پاکستان میں رہ رہے ہیں جہاں بانی کو عید کی نماز نہ پڑھنے دی تو پیچھے کیا چیز رہ جاتی ہے،اس سے بڑی بے غیرتی نہیں ہو سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بار بار توہین عدالت کر رہے ہیں،امید کرتے ہیں جج صاحبان اپنے احکامات پر عملدرآمد کروائیں، اگر ججز اپنے احکامات پر عمل درآمد نہ رکوا سکے تو بہتر ہے استعفی دیکر کر گھر چلے جائیں،
ہمارا وفد بلوچستان گیا ہوا ہے،مشکل سے وہ اختر مینگل کے قافلے سے جا کرملے۔

عمر ایوب نے کہا کہ بلوچستان کی حکومت نے انکا راستہ روکا ہم اسکی مذمت کرتے ہیں، ہم کہتے رہے کہ 8اضلاع مین حکومت کی رٹ نہیں ہے، محسن نقوی نے کہا بلوچستان ایک ایس ایچ او کی مار ہے کہاں ہے وہ ایس ایچ او، انتظامیہ خود اعلان کر رہی ہے کہ بلوچستانہں لاء اینڈ آرڈر نہیں ہے۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ملک کو صرف بانی پی ٹی آئی اکھٹا کر سکتے ہیں۔

ہماری عمران خان سے ملاقات نہ کروانا عدالت کے فیصلے کی کھلم کھلا توہین ہے، شبلی فراز

اس موقع پر سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز نے کہا کہ ہمیں دوسری مرتبہ ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی اس سے ظاہر ہوتا ہے عدالتی فیصلے کوئی معنی نہیں رکھتے، کوئی ملک جہاں عدالتی فیصلوں کو جوتے کی نوک پر رکھا جائے وہ ملک نہیں کہلا سکتا، جہاں پک اینڈ چوز کیا جائے اسکا مطلب عدالتیں اپنا وقار کھو چکی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ عدالتیں اور ججز جو قانون کے مطابق فیصلے دیتے ہیں،اگر اس پر کوئی عمل درآمد نہیں کرتا تو اس پر سزا کا بھی تعین کریں، جب عوام دیکھیں گے کہ عدالت کا کوئی مقام و حیثیت نہیں تو وہ کیوں قانون کا احترام کریں گے، عوام کنفیوژن کا شکار ہیں، جتنے قیدی یہاں بیٹھے ہیں انکو عدالتوں نے ہی سزا دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری ملاقات نہ کروانا عدالت کے فیصلے کی کھلم کھلا توہین ہے۔

بانی پی ٹی آئی کو سزا دیتے ہیں اس لئے کہ وہ جھک نہیں رہا، عالیہ حمزہ

پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ نے کہا کہ شرم کا مقام ہے کہ سابق منتخب وزیر اعظم سے بدترین سلوک کیا جا رہا ہے، ہمارے وزیر اعظم کو ان کی بہنوں سے نہیں ملنے دیا، بچوں سے نہیں ملنے دیا، اہلیہ سے نہیں ملنے دیا، باسی کھانا دے رہے ہیں، ٹی وی اخبار نہیں دے رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو کرپشن پر پکڑا جاتا ہے،ثابت ہوتا ہے اسکے پلیٹ لیٹس گرتے ہیں اس کو ملک سے باہر بھیج دیتے ہیں، بانی کو سزا دیتے ہیں اس لئے کہ وہ جھک نہیں رہا، وہ اپنے مفاد پر قوم کے مفاد کو ترجیح دے رہا ہے، ایک ملک دو نظام ہیں کہ اشرافیہ کی ملاقات سپریٹنڈنٹ کے اے سے کمروں میں کرائی جاتی تھی، گھروں سے کھانا آتا تھا

انہوں نے کہا کہ وہاں فون کمروں سے برآمد ہوتے تھے اور یہاں بچوں سے بات نہیں کرائی جاتی، باسی کھانا دیا جاتا ہے، آپ نے ہر فسطائیت کرلی اسکے باوجود ہم لیڈر کے ساتھ ڈٹ کھڑے ہیں،پوری قوم کھڑی ہے، آپ سب کچھ کرلیں گے تو ہم پیچھے نہیں ہٹتے والے، آپ یہاں آکر بتاتے رہیں گے کہ انصاف و جمہوریت کا جنازہ ے دھوم سے نکلے گا۔

عالیہ حمزہ نے کہا کہ ہم یہ لڑائی لڑتے رہیں گے، کفر کا نظام چل سکتا ہے، ناانصافی کا نہیں، جو بلوچستاں میں جو ظلم ماہرنگ اور خواتین کو پکڑ کر کیا گیا، ہم کسی کو بھولنے نہیں دیں گے، اس وقت ہمارا مقصد نظریہ بہت بڑا ہے جو بانی کی رہائی ہے، اس پارٹی میں لیڈر صرف بانی ہے باقی سب کارکنان ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کوئی اندرونی لڑائی نہیں حماد اظہر میرے بھائی ہیں، اگر خان صاحب سے لڑائی ہوتی تو یقیننا اس موضوع پر بھی بات ہوتی، یہ وقت پاکستان،بانی اور عوام کے سوچنے کا وقت ہے ، آپ نے پنجاب میں افطار پارٹیوں، فاتحہ خوانیوں پر کسطرح ریڈ کئے گئے، اس ملک کو آگے جانے دیں، ہماری کوئی لڑائی نہیں ہے ہم سب اکھٹے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں